الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي الْوِتْرِ بِسَبْعٍ وَتِسْعٍ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثِ عَشْرَ
پانچ یا سات سے کم وتر نہ ہونے اور ایک رات میں دو وتر نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2227
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُّ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وَتْرِي ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوِتْرُ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان سے وتر کے بارے میں سوال کیاجاتا تو وہ کہتے: جہاں تک میری بات کا تعلق ہے تو اگر میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، لیکن پھر رات کو نماز پڑھنے کا ارادہ کر لوں تو ایک رکعت ادا کر کے پہلے والے وتر کو جفت بنالیتا ہوں،پھر دو دو رکعت کرکے نماز پڑھتا رہتا ہوں، اور جب مطلوبہ نماز پوری کرلیتا ہوں تو آخر میں ایک وتر پڑھ لیتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ وتر کو رات کی آخری نماز بنایا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2227]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح وھذا اسناد حسن۔ أخرج البخاري: 998، ومسلم: 751 بلفظ: عن ابن عمر عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال: ((اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4710، 6190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6190»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ذاتی عمل اور استدلال ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں دو دفعہ وتر پڑھنے سے منع فرمایا، جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ اس طرح نیند وغیرہ کے بعد ایک رکعت کو دوسری رکعت کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں دیئے گئے حکم کو استحباب پر محمول کیا جائے اور دوسرے دلائل کی روشنی میں نماز وتر کے بعد بھی نماز پڑھنے کی گنجائش نکالی جائے اور وتر کا اعادہ یا اسے جفت بنانے کا عمل نہ دوہرایا جائے۔
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح وھذا اسناد حسن۔ أخرج البخاري: 998
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2227 in Urdu