🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ إِنَّ فِعْلَهَا فِي الْبَيْتِ أَفْضَلُ
اس کی دلیل کا بیان، جو یہ کہتا ہے کہ گھر میں تراویح ادا کرنا افضل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا أَفْضَلُ؟ الْصَّلَاةُ فِي بَيْتِي أَوِ الْصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا تَرَى إِلَى بَيْتِي؟ مَا أَقْرَبَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ! فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً) ) (سنن ابن ماجة: 1378)
سیّدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میرا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ میرے گھر کو نہیں دیکھتے؟ وہ مسجد کے بہت زیادہ قریب ہے، لیکن پھر بھی مجھے مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ محبوب ہے، سوائے فرضی نماز کے (وہ مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 731، 7290، ومسلم: 781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21582)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 731


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244M
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَمِلْتُ اللَّيْلَةَ عَمَلًا، قَالَ: ( (مَا هُوَ؟) ) قَالَ: نِسْوَةٌ مَعِيَ فِي الدَّارِ قُلْنَ لِي: إِنَّكَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّيْتُ ثَمَانِيًا وَالْوِتْرَ، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَرَأَيْنَا أَنَّ سُكُوتَهُ رِضًا بِمَا كَانَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، سیّدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الليل والوتر/حدیث: 2244M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية الانصاري المدني، ولابھام الراوي له عن يعقوب بن عبد الله، لكن قد رواه غير واحد عن يعقوب، أخرجه ابن حبان: 2549، 2550، وابويعلي: 1801، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3743، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21098)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21415»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية الانصاري المدني


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2244 in Urdu