یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى وقتها وجواز فعلها جماعة
صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 2260
عَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِي أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَيَّ ذَلِكَ وَنَهَانِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُصَلُّوا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ) )
سعید بن نافع کہتے ہیں: صحابی رسول سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے سورج طلوع ہوتے وقت نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور ایسا کرنے سے منع کیا، پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک سورج بلند نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، أخرجه أبو عوانة: 2/ 271، وابن خزيمة: 1227، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 5111، وانظر الحديث بالطريق الأول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22234»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2260 in Urdu