الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا يَقُولُهُ الْمُسَافِرُ عِنْدَ رُكُوبِ دَابَّتِهِ وَعِنْدَ عَثْرَتِهَا وَمَا جَاءَ فِي الِارْتِدَافِ
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے¤اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 2311
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ فَتَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ: ارْكَبْ فَأَبَى، فَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا) ) ، فَقَالَ لَهُ حَبِيبٌ إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ
عبد الرحمن بن امیہ کہتے ہیں کہ سیّدناحبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ پہلے فتنے کے وقت کی بات ہے، وہ گھوڑے پر سوار تھے، وہ گھوڑے کی زین سے پیچھے ہٹ گئے اور ان سے کہا:سوار ہوجاؤ، لیکن سیّدنا قیس رضی اللہ عنہ نے (اس مقام پر) سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ آگے سے سیّدنا حبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشادسے جاہل نہیں ہوں، لیکن میں تجھ پر(کسی دشمن سے) ڈرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2311]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3534، وفي ’’الاوسط‘‘: 1948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15557»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2311 in Urdu