الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب فضل العلم والعلماء
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 233
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَاكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف دو چیزوں میں رشک ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس کو حق کے لیے بھرپور خرچ کرنے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ آدمی کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو حکمت (یعنی علمِ نافع) عطا کی اور وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 73، 1409، ومسلم: 816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3651»
وضاحت: فوائد: … حسد کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے: (۱) کسی شخص کے بارے میں یہ تمنا کرنا کہ وہ فلاں نعمت سے محروم ہو جائے، یہ حرام ہے۔ (۲) کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اسے بھی یہ نعمت مل جائے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کو رشک کہتے ہیں اور یہ ہر اس نعمت کے بارے میں کیا جا سکتا ہے، جس کا گناہ سے تعلق نہ ہو۔
اس حدیث میں رشک کو صرف دو چیزوں کے ساتھ پابند کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ قابل تعریف اور عظمت و فضیلت والا رشک ان دو چیزوں میں ہی ہوتا ہے۔
اس حدیث میں رشک کو صرف دو چیزوں کے ساتھ پابند کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ قابل تعریف اور عظمت و فضیلت والا رشک ان دو چیزوں میں ہی ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 73
Al-Fath al-Rabbani Hadith 233 in Urdu