🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فضل العلم والعلماء
علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 237
عَنْ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ أَنَّهُ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مُلْكِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَا ابْنُ أَبْزَى؟ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا، فَقَالَ عُمَرُ: اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى! فَقَالَ: إِنَّهُ قَارِئُ لِكِتَابِ اللَّهِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَاضٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ) )
نافع بن عبدالحارث رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عسفان مقام پر ملے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اس کے سابقہ ملک کا عامل بنایا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم وادی والوں پر کس کو نائب بنا کر آئے ہو؟ اس نے کہا: جی میں ابن ابزی کو نائب بنا کر آیا ہوں، انہوں نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟ اس نے کہا: یہ ہمارا ایک غلام ہے، انہوں نے کہا: تم غلام کو نائب بنا آئے ہو! اس نے کہا: جی وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنے والا، فرائض کو جاننے والا اور فیصلہ کرنے والا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو رفعت عطا کرتا ہے اور اسی کے ذریعے بعضوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 232»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عمر ؓکی خلافت کا زمانہ ہے، جس میں ایک غلام کو شرعی علم کی وجہ سے لوگوں کا امیر بنایا جا رہا ہے، مسلمانوں کی رفعت اور ذلت کا معیار اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 237 in Urdu