الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ جَمْعِ الْمُقِيمِ لِمَطَرٍ أَوْ غَيْرِهِ
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2398
عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَمَا أَرَادَ لِغَيْرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ میں جمع کر کے ادا کیا، جبکہ نہ کوئی خوف تھا اور نہ بارش۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ (بارش اور خوف کے بغیر) ایسا کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا تھا؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ امت کو تنگی میں نہ ڈالیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 705، وابوداود: 1211، والترمذي: 187، والنسائي: 1/ 290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1953»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 705
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2398 in Urdu