الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ جَمْعِ الْمُقِيمِ لِمَطَرٍ أَوْ غَيْرِهِ
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2401
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ، وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَٰذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةَ الْفَجْرِ هَٰذِهِ السَّاعَةَ) )
عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں تھا، انھوں نے دو نمازیں پڑھیں، ہر نماز اکیلی اذان اور اقامت کے ساتھ ادا کی اور ان کے درمیان کھانا بھی کھایا، فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب فجر طلوع ہوچکی تھی، یا یہ کہا کہ یہ نماز اس وقت پڑھی، جب کوئی کہتا کہ فجر طلوع ہو گئی اور کوئی کہتا کہ طلوع نہیں ہوئی، پھر کہا:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس مقام پر ان دو نمازوں کو ان کے اوقات سے پھیر دیا جاتا ہے، کیونکہ لوگ مزدلفہ میں اس وقت پہنچتے ہیں جب (غروبِ شفق کے بعد والا) اندھیرا ہو چکا ہوتا ہے اور فجر کی نماز اس وقت پڑھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2401]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1683، وسلف مختصرا: 1248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3969»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1683
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2401 in Urdu