الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. فَصْلٌ مِنْهُ فِي قَوْلِهِ ﷺ "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
حدیث نمبر: 242
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ: ( (وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ زائد بات ہے: ”صرف اور صرف میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7194»
وضاحت: فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو علم شرعی کو تقسیم کرنے والے ہیں، کبھی قرآن کی تعلیم دیتے ہیں اور کبھی احادیث بیان کرتے ہیں، رہا مسئلہ فہم و فقہ اور استدلال و استنباط کا، تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اُس نے اِس کو کسی زمانے یا شخصیت کے ساتھ خاص نہیں کیا۔
الحكم على الحديث:
صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابن ماجه: 220
Al-Fath al-Rabbani Hadith 242 in Urdu