الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ خُصُوصًا الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ
جماعت بالخصوص عشاء اور فجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 2467
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً، فَقَالَ: ( (إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ) ) ، فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ، أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ( (أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ؟) ) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَأْتِهَا) )
سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے)، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2467]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن خزيمة: 1479، والحاكم: 1/ 247، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5087، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15572»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن خزيمة: 1479
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2467 in Urdu