الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ الْإِذْنِ لَهُنَّ بِالْخُرُوجِ لِذَلِكَ
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
حدیث نمبر: 2496
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ) قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا غَيُّورًا، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّبَعَتْهُ عَاتِكَةُ بِنْتُ زَيْدٍ فَكَانَ يَكْرَهُ خُرُوجَهَا وَيَكْرَهُ مَنْعَهَا، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا اسْتَأْذَنَتْكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَمْنَعُوهُنَّ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ بڑے غیرت مند آدمی تھے، جب وہ نماز کے لیے نکلتے تو (ان کی بیوی) سیدہ عاتکہ بنت زید رضی اللہ عنہا بھی ان کے پیچھے چلی جاتیں، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے نکلنے کو نا پسند بھی کرتے، لیکن اس کو روکنا بھی ان کو گوارا نہ تھا، پھر وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری عورتیں تم سے مسجد میں جانے کے لیے اجازت مانگیں تو ان کو نہ روکا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث: «صحيح، الا ان سالم بن عبد الله لم يدرك جده ولم يسمع منه، لكن في الباب احاديث صحيحة ثابتة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 283»
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2496 in Urdu