الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَعْلِيمِ الْعِلْمِ وَآدَابِ الْمُعَلِّمِ
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 252
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (عَلِّمُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعلیم دو اور خوشخبریاں سناو اور مشکلات پیدا نہ کرو اور جب کسی کو غصہ آ جائے تو وہ خاموش ہو جائے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 2608، وابن ابي شيبة: 8/532، والبزار: 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2136»
وضاحت: فوائد: … معلم، مربیّ اور مبلغ کو حکیم اور دانا ہونا چاہیے اورلوگوں کی ذہنی سطح اور ان کے مزاج کا اندازہ کر کے ان سے گفتگو کرنی چاہیے۔ غصے کی حالت میں عام لوگوں کو اچھے بھلے کی تمیز نہیں رہتی اور وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں، جن کی وجہ سے دلوں میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور خود بولنے والی کو بھی ندامت ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه الطيالسي: 2608
Al-Fath al-Rabbani Hadith 252 in Urdu