🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَعْلِيمِ الْعِلْمِ وَآدَابِ الْمُعَلِّمِ
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 255
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس حال میں چھوڑا کہ جو پرندہ بھی (اڑنے کے لیے) اپنے پروں کو حرکت دیتا، ہمیں اس سے کوئی نہ کوئی علم ہو جاتا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 255]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الطيالسي: 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21688»
وضاحت: فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت کے سارے احکام ومسائل کا علم ہو گیا تھا یا ہر پرندے کی حلت و حرمت، حلال پرندوں کے ذبح وغیرہ کے احکام اور اس سے متعلقہ دوسرے شرعی احکام بیان کر دیئے گئے تھے، اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو پرندوں سے فال لینا معلوم ہو گیا تھا، جو جاہلیت کی ایک رسم تھی۔
یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ پرندوں کے اڑنے سے اللہ کی قدرت سمجھ آتی ہے اور اللہ کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الملک (آیت: ۱۹) میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی اس نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 479


Al-Fath al-Rabbani Hadith 255 in Urdu