🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الحث على تعليم العلم وآداب المعلم
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأَيْنَا الْعَيْنَ، فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ أَهْلِي وَوَلَدِي فَذَكَرْتُ مَا كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ! نَافَقَ حَنْظَلَةُ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَتَّى كَأَنَّا رَأَيْنَا عَيْنًا، فَذَهَبْتُ إِلَى أَهْلِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ مَعَ وَلَدِي وَأَهْلِي، فَقَالَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ( (يَا حَنْظَلَةُ! لَوْ كُنْتُمْ تَكُونُونَ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: بِأَجْنِحَتِهَا) وَأَنْتُمْ عَلَى فُرُشِكُمْ وَبِالطَّرِيقِ، يَا حَنْظَلَةُ! سَاعَةً وَسَاعَةً) )
سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور جہنم کے موضوع پر ہمیں خطاب کیا، یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، پھر میں اٹھ کر اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مجھ پر طاری تھی، پس میں نکل پڑا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: اے ابو بکر! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے، انہوں نے کہا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ کیا اور یوں لگا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں، لیکن جب میں اپنے اہل و عیال کے پاس گیا تو (اس کیفیت کو بھول کر) اپنے بیوی بچوں سے ہنسنے کھیلنے لگا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں، یہ سن کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور یہ ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حنظلہ! اگر گھروں میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہو، جو میرے پاس ہوتی ہے تو بستروں اور راستوں پر فرشتے اپنے پروں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، لیکن حنظلہ! کبھی اس طرح اور کبھی اس طرح۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2750، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19254»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعظ و نصیحت کا انداز نہایت مؤثر ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے صحابۂ کرام پر جو آثار مرتّب ہوتے تھے، وہ سیدنا ابو بکر ؓجیسے عظیم لوگ بھی بعد میں برقرار نہیں رکھ سکتے تھے، بہرحال اہل علم کو چاہیے کہ اپنے علم کے عملی تقاضوں کو پورا کر کے اپنی گفتگو کو پر اثر بنائیں اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی فکر کریں، یہاں اس چیز کی یادہانی ضروری ہے کہ معاشرے کے رہن سہن کے جن طریقوں کا شریعت کے ساتھ تصادم نہ ہو اور معاشرہ بھی ان کو باوقار لوگوںکی صفات سمجھتا ہو، ایسے امور کو اختیار کر لینا بہتر ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2750


Al-Fath al-Rabbani Hadith 257 in Urdu