الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ اقْتِدَاءِ الْمُفْتَرِضِ بِالْمُتَنَفِّلِ وَالْمُقِيمِ بِالْمُسَافِرِ
مفترض کی متنفل کی اور مقیم کی مسافر کی اقتداء میں نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 2604
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھتے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس جاتے اور ان کو عشاء پڑھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2604]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا البخاري: 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14190، 14241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14290»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نمازِ عشاء ادا کرتے، پھر وہ جا کر اپنی قوم کو یہی نماز پڑھاتے تھے۔ اس حدیث سے لازمی طور پر یہ ثابت ہوا کہ نفلی نماز ادا کرنے والے امام کی اقتداء میں فرضی نماز ادا کی جا سکتی ہے، یعنی ایسی صورتوں میں امام اور مقتدی کی نیتوں میں فرق آ سکتا ہے، دوسری احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مفترض کی اقتداء میں متنفل کا نماز پڑھنا بھی درست ہے۔ اسی طرح مسافر اور مقیم بھی ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتے ہیں، مقیم کی اقتداء میں مسافر پوری نماز پڑھے گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۱۳) اور(۱۲۱۷) میں وضاحت ہو
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا البخاري: 705
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2604 in Urdu