الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب اقتداء القادر على القيام بالجالس والجالس لعذر بالقائم
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2610
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَكْأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَأَانَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا وَائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنَّ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جبکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو سنانے کے لیے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو ہمیں کھڑے پا کر ہماری طرف اشارہ کیا (کہ ہم بیٹھ جائیں)، پس ہم نے بیٹھ کر نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا: قریب تھا کہ تم وہ کام کرو جوفارسی اور رومی کرتے ہیں، وہ اس طرح کہ ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں اور وہ ان کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، سو تم ایسا نہ کرو اور اپنے اماموں کی اقتدا کیا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14644»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 413
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2610 in Urdu