الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ مَنْ صَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُمْ نَافِلَةً
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
حدیث نمبر: 2683
عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لِي: ( (أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟) ) قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ( (فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، قَالَ: ( (فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَلَوْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ) ) )
سیّدنا محجن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن میں بیٹھا رہا (اور نماز نہ پڑھی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکے رکھا؟ میں نے کہا: جی، میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نماز پڑھا کر۔ اور ایک روایت میں ہے: جب تو آئے تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کر، اگرچہ تو اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2683]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف، بسر بن محجن غير معروف أخرجه النسائي: 2/ 112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16393، 16395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16506»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2683 in Urdu