الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب فيما جاء فى ذم كثرة السؤال فى العلم لغير حاجة
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 269
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ) ) فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (أَبُوكَ حُذَافَةُ بْنُ قَيْسٍ) ) فَرَجَعَ إِلَى أُمِّهِ فَقَالَتْ: وَيْحَكَ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ، فَقَدْ كُنَّا أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَهْلَ أَعْمَالٍ قَبِيحَةٍ، فَقَالَ لَهَا: إِنْ كُنْتُ لَا أُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِي وَمَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے والے لوگ صرف اور صرف کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔“ سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ بن قیس تھا۔“ پھر جب وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے ان کو کہا: ”تو ہلاک ہو جائے، کس چیز نے یہ سوال کرنے پر آمادہ کیا، ہم جاہلیت والے اور قبیح اعمال کرنے والے تھے۔“ انہوں نے اپنی ماں سے کہا: ”میں یہ جاننا پسند کرتا تھا کہ میرا باپ کون تھا اور کن لوگوں میں سے تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا مسلم ص 1830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10538»
وضاحت: فوائد: … جن سوالات کا مسلمان کی عملی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو، ان سے باز رہنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه مختصرا مسلم ص 1830
Al-Fath al-Rabbani Hadith 269 in Urdu