الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب فيما جاء فى ذم كثرة السؤال فى العلم لغير حاجة
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 271
عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَنِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُلُوِّطَاتِ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: الْغُلُوِّطَاتُ شِدَادُ الْمَسَائِلِ وَصِعَابُهَا (مسند أحمد: 24087)
ایک صحابی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغالطہ آمیز باتوں سے منع کیا ہے۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: غُلُوْطَات سے مراد مشکل اور پیچیدہ مسائل ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 271]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعد، وقال الساجي: ضعفه اھل الشام، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23687 ترقیم بيت الأفكار الدولية:24087»
وضاحت: فوائد: … اس سے مراد وہ سوالات اور باتیں ہیں، جن کے ذریعے اہل علم کو غلطی میںمبتلا کیا جائے یا وہ مبہم اور غیر واضح باتیں ہیں، جن سے مغالطہ دینا مقصود ہو۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعد
Al-Fath al-Rabbani Hadith 271 in Urdu