الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب التنفل قبل الجمعة ما لم يصعد الخطيب المنبر فإذا صعد فلا صلاة إلا ركعتين تحية المسجد لداخل
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان¤کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
حدیث نمبر: 2777
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ ثِيَابَهُ وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ثُمَّ مَشَى إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا وَلَمْ يُؤْذِهِ وَرَكَعَ مَا قُضِيَ لَهُ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمَعَتَيْنِ) )
سیّدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا، کپڑے زیب تن کیے، اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو وہ بھی استعمال کی، پھر جمعہ کے لیے مسجد کی طرف سکون اور وقار کے ساتھ چلا اور کسی کے کندھے کو پھلانگا نہ کسی کو تکلیف دی، پھر نماز پڑھی، جتنی اس کے مقدر میں تھی، پھر انتظار کرتا رہا، حتی کہ امام (خطبہ اور نماز سے) فارغ ہو گیا، تو اس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، حرب بن قيس لم يسمع من أبي الدرداء أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22072»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2777 in Urdu