🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب فى الخطبة بعد صلاة كسوف الشمس
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2919
عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً إِلَى جَنْبِي، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَٰذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ"لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ" يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَٰذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ، هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ فَيَقُولُ مَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ) )
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا، پس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر داخل ہوئی(وہ بھی اسی نماز میں شریک تھیں)، میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ انھوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: یہ کوئی (عذاب کی) نشانی ہے؟ انہوں نے (اشارے سے)کہا:ہاں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت لمبا قیام کیا، حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، اس لیے میں نے اپنے پہلو میں پڑا ہوا ایک مشکیزہ پکڑ لیا اور اپنے سر پر پانی بہانے لگی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد! کوئی چیزنہیں، جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی، مگر وہ اس مقام میں دیکھ لی ہے، میں نے جنت اور آگ کو بھی دیکھا ہے۔ بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تم کو عنقریب قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کی طرح آزمایا جائے گا، تم میں سے ہر ایک کے پاس (قبر میں) آیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا: تو اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ پس ایمان یا یقین رکھنے والا کہے گا: وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس روشن دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے، پس ہم نے قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی، تین مرتبہ یہ بات کہے گا۔ پس اس کو کہا جائے گا: تحقیق ہم جانتے تھے کہ بے شک تو ان کے ساتھ ایمان رکھتا ہے، پس تو اچھی حالت میں سو جا۔ رہا مسئلہ نفاق یا شک والے آدمی کا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سناتھا، بس میں نے بھی وہ کہہ دیا تھا، (لیکن اب تو میں کچھ نہیں جانتا)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 86، 1235، 1373، مسلم: 905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27464»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 86


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2919 in Urdu