الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فى الخطبة بعد صلاة كسوف الشمس
سورج گرہن کی نماز کے بعد خطبے کا بیان
حدیث نمبر: 2924
)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ کسوف کی طوالت ِ قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہر رکعت میں دو رکوع تھے، (جیسا کہ سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے، مزید وہ کہتی ہیں): جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہوچکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، پس جب تم ان دونوں کو اس طرح دیکھو تو اللہ کی بڑھائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیاکرو، نماز پڑھا کرو اور صدقہ کیا کرو۔ اے امت ِ محمد! کوئی بھی نہیں جو اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند ہو کہ اس کا بندہ یا باندی زنا کرے۔اے امت ِ محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، خبر دار! کیا میں نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا ہے؟! [الفتح الربانی/أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1044، 5221، ومسلم: 901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25826»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1044
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2924 in Urdu