الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب نوع ثالث يتضمن اقتصار كل طائفة على ركعة مع الإمام بدون قضاء الثانية
نماز خوف کی تیسری صورت¤ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
حدیث نمبر: 2959
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ، وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّونَ مَعَهُ وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد أخرجه الترمذي: 3035، والنسائي: 3/ 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10775»
وضاحت: فائدہ: … ممکن ہے کہ اس حدیث میں وہی واقعہ بیان کیا گیا ہے جو سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان ہو چکا ہے، اگر یہ تسلیم کیا جائے تو پھر مقتدیوں کی بھی دو دو رکعتیں ہوں گی۔ بہرحال دوسری احادیث سے صرف ایک رکعت کا ثبوت بھی فراہم ہو چکا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده جيّد أخرجه الترمذي: 3035
Al-Fath al-Rabbani Hadith 2959 in Urdu