🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب نوع رابع يتضمن صلاة الإمام بكل طائفة ركعة وانتظاره لقضاء كل طائفة
نمازِ خوف کی چوتھی صورت¤امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2961
عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرِ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وَجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وَجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمَّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ مَالِكٌ وَهَٰذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ
صالح بن خوات ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی، اس نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنالی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے خود دوسری رکعت ادا کر لی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ماندہ رکعت پڑھی، پھر آپ اتنی دیر بیٹھے رہے، کہ یہ لوگ دوسری رکعت ادا کرکے (تشہد میں بیٹھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں:نماز خوف کے بارے جو کچھ میں نے سنا ہے اس میں سے یہ صورت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4129، ومسلم: 842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23524»
وضاحت: فوائد: … واقعی یہ بڑی دلچسپ صورت ہے، جو ہمارے اسلام کے موقع شناس ہونے پر دلالت کرتی ہے۔پہلا گروہ دوسری رکعت ادا کرنے کے بعد تشہد اور سلام سے فارغ ہو کر جائے گا، جیسا کہ ابو داود کی روایت کے الفاظ ہیں: وَأَتَمُّوْا لِأَنْفُسِھِمُ الرَّکْعَۃَ الْبَاقِیَۃَ ثُمَّ سَلَّمُوْا وَانْصَرَفُوْا وَالْاِمَامُ قَائِمٌ۔ یعنی: اور انھوں نے دوسری رکعت پڑھی، سلام پھیرا اور پھر چلے گئے، جبکہ امام (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کھڑے رہے۔ دوسرا گروہ امام کے ساتھ سلام پھیرے گا اور امام ان کے سلام کا انتظار کرے گا، جیسا کہ اگلی حدیث کے ایک طریق سے معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بھی درست ہے کہ جب مختلف منزلوں پر مشتمل مسجد میں خواتین و حضرات نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں اور سپیکر کے بند ہو جانے کی وجہ سے مقتدیوں کا امام کے ساتھ رابطہ بالکل منقطع ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں ایسے مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ امام کی اقتدا سے نکل کر نماز کا بقیہ حصہ خود ادا کر لیں، جیسا کہ اِس صورت میں صحابۂ کرام نے دوسری رکعت میں کیا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4129


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2961 in Urdu