🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب نوع خامس يتضمن صلاة الإمام بكل طائفة ركعتين بسلام
نماز خوف کی پانچویں صورت¤امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2965
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: ( (لَا) ) ، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: ( (اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمْنَعُنِي مِنْكَ) ) فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ وَتَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14990»
وضاحت: فوائد: … امام نووی کہتے ہیں کہ طحادی نے نمازِ خوف کی اس صورت کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مگر ان کا یہ دعویٰ ناقابل قبول ہے کیونکہ اس کے نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے۔محارب، خصفہ کا بیٹا تھا اور خصفہ بن قیس کی چوتھی پشت پر مضر کا نام آتا تھا، قیس کی اولاد کے محاربی لوگ اسی محارب کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ یہ لڑائی غزوۂ ذات الرقاع کے موقع پر ہوئی۔اس واقعہ سے آپ کے حسن اخلاق کا بھی چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانی دشمن کو اس قدر فراخ دلی کے ساتھ معاف کر دیا اور اس سے انتقام نہ لیا۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14990


Al-Fath al-Rabbani Hadith 2965 in Urdu