الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. فَضْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي كِتَابَةِ الْحَدِيثِ
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 297
عَنْ مُجَاهِدٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَا: سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (يَعْنِي بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ
مجاہد اور مغیرہ بن حکیم رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، ما سوائے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور دل سے یاد کر لیتے تھے، جبکہ میں دل سے یاد کر لیتا تھا اور لکھتا نہیں تھا،“ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھنے کی اجازت طلب کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9220»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 113
Al-Fath al-Rabbani Hadith 297 in Urdu