الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3003
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَغْبَرَّتَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَعَلَّكَ سَاءَكَ يَا طَلْحَةُ! إِمَّارَةُ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَجْدَرُكُمْ أَنْ لَا أَفْعَلَ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ عِنْدَ حَضْرَةِ الْمَوْتِ إِلَّا وَجَدَ رُوحُهُ لَهَا رَوْحًا، حِينَ يَخْرُجُ مِنْ جَسَدِهِ، وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا، فَذَاكَ الَّذِي دَخَلَنِي، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَأَنَا أُعْلِمُهَا، قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَمَا هِيَ؟ قَالَ: هِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا لِعَمِّهِ (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ، قَالَ طَلْحَةُ: صَدَقْتَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیّدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے: کیا بات ہے کہ جس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا ہے آپ پراگندہ پراگندہ اور غبار آلود سے ہو کر رہتے ہیں۔ کہیں آپ کو اپنے چچیرے بھائی (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کا امیر بننا ناگوار تو نہیں گزرا؟ سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی پناہ!میں تو تم سے بھی زیادہ لائق ہوں کہ اس طرح نہ کروں، (مجھے یہ بات کیوں ناگوار گزرے)۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں، جوشخص وفات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے تو اس کی روح جسم سے نکلتے ہی رحمت و راحت پا لیتی ہے، نیز وہ کلمہ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث ہو گا۔ مگر افسوس کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کلمہ کے متعلق نہ پوچھ سکا کہ وہ کونسا ہے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں بیان کیا۔اس چیز نے مجھے غمزدہ کر رکھا ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ کلمہ جانتا ہوں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کا شکر، وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) پر پیش کیا تھا، یعنی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ انھوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3003]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه أخرجه ابن ماجه: 3796، والنسائي: 1101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 187، 1384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 187»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه أخرجه ابن ماجه: 3796
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3003 in Urdu