الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
حدیث نمبر: 3051
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا … إِلَى قَوْلِهِ … وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} قَالَتْ: كَانَ مِنْهَا النِّيَاحَةُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِلَّا آلَ فُلَانٍ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِلَّا آلَ فُلَانٍ) )
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی:{ ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔ ان معروف کاموں میں سے ایک نوحہ بھی تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) مگر فلاں خاندان والے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3051]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4892، 7215، ومسلم: 937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21077»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور کر سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو نوحہ کرنے کی اجازت دی، جبکہ شارع کو عام حکم سے تخصیص کرنے کا حق حاصل ہے، لہٰذا سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی اس رخصت کے علاوہ نوحہ کرنا حرام ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4892
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3051 in Urdu