🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ
گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3061
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ فَقَالَ: ( (إِنَّ هَذَا لَيُعَذَّبُ الْآنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ) ) ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ وَهَلَ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَهْلَ الْمَيِّتِ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِجُرْمِهِ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اورفرمایا: اس میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اب عذاب ہو رہا ہے۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن کو معاف فرمائے، انہیں غلطی لگ گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا تو ارشاد یہ ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام: ۱۶۴) یعنی: کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: بیشک اس میت کو اب عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3061]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1004، وأخرجه مختصرا البخاري: 1286، ومسلم: 928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4865»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جو حدیث ِ مبارکہ بیان کی، وہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، کئی دوسرے صحابہ سے بھی مروی ہے۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذاتی فہم ہے کہ وہ اس آیت ِ مبارکہ کی روشنی میں سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بھول جانے کی رائے دے رہی ہیں، حالانکہ اِس حدیث اور اِس آیت میں کوئی تضاد نہیں ہے، آگے اس کا بیان آئے گا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جو روایت بیان کر رہی ہیں، وہ بھی اپنی جگہ پر درست ہے، جمع و تطبیق کا بیان آگے آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1004


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3061 in Urdu