الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ
نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 3083
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ ابْنَةِ زَيْنَبَ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ، كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ، فَقَالَ: ( (لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى) ) ، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَبْكِي؟ أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدہ امیمہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو لایا گیا، وہ عالَم نزع میں تھیں اورپرانے مشکیزے کی طرح لگ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ جو لے لے اور جو دے دے، سب اسی کا ہے اور ہر چیز کا ایک وقت ِ مقرر ہے۔ یہ کہتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں فرمایا تھا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3083]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22142»
وضاحت: فوائد: … یعنی اس کے سانس اکھڑنے کی آواز پرانے مشکیزے میں پانی کے چھلکنے کی آواز کی طرح تھی۔(عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22142
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3083 in Urdu