الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي نَعْيِ الْمَيِّتِ
دوسروں کو کسی کے مرنے کی خبر دینا
حدیث نمبر: 3088
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَمَّا يُدْعَى لِلْمَيِّتِ؟ فَقَالَ: مَا أَبَاحَ لَنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ابوزبیرکہتے ہیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے میت کے لیے دی جانے والی پکار کے بارے میں پوچھا گیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3088]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن أخرجه ابن ماجه: 1501، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14907»
وضاحت: فائدہ: … ”نَعْیٌ“ یا ”نَعِیٌّ“ کے لغوی معانی ہیں: کسی کی موت کی خبر دینا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، جبکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض لوگوں کی موت کا اعلان کیا تو اس وقت یہی الفاظ استعمال کیے گئے، مثلا: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((اِنَّّ رَسُوْلَ اللّٰہِVنَعَی النَّجَاشِیَّ فِیْ الْیَوْمِ الَّذِیْ مَاتَ فِیْہِ، خَرَجَ اِلَی الْمُصَلّٰی فَصَفَّ بِھِمْ وَکَبَّرَ اَرْبَعًا۔)) یعنی: ”جس دن نجاشی فوت ہوا، اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کی خبر دی، پھر نماز گاہ کی طرف نکلے، لوگوں کی صفیں بنوائیں اور چار تکبیرات کہیں۔“ (بخاری: ۱۲۴۵) اسی طرح سیّدنا جعفر، سیّدنا زید اور سیّدنا ابن رواحہeوغیرہ کا اعلان بھی کیا گیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3088 in Urdu