الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي غُسْلِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ لِلْآخَرِ
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3102
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاءُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی تھیں: جس چیز کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر اس کا پہلے پتہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3102]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه أبوداود: 3141، وابن ماجه: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26837»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مکمل روایت آ گے آ رہی ہے، اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امام ابوحنیفہkکا یہ مسلک ہے کہ خاوند بیوی کو غسل نہیں دے سکتا، کیونکہ موت کی وجہ سے ان میں جدائی پیدا ہو جاتی ہے، یہی وجہ یہ ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد اس کی بہن اُس مرد کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه أبوداود: 3141
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3102 in Urdu