🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ صِفَةِ غُسْلِ الْمَيِّتِ
میت کو غسل دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ عَلَيْهَا السَّلَامُ، فَقَالَ: ( (اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْءًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي) ) ، قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: ( (أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ) ) ، قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَةُ قَالَ: ( (اغْسِلْنَهَا وَتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا) ) ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَ قُرُونٍ (زَادَتْ فِي رِوَايَةٍ) وَأَلْقَيْنَا خَلْفَهَا قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین یا پانچ دفعہ غسل دو یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زیادہ مرتبہ نہلا دو، البتہ آخری دفعہ میں کچھ کافور ملا لینا، پھر جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ پس جب ہم غسل سے فارغ ہوئیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ازار کا کپڑا ہمیں دیا اور فرمایا: سب سے پہلے اس کو اس چادر میں لپیٹو۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے طاق یعنی تین یا پانچ یا سات دفعہ غسل دو۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے کنگھی کرکے ان کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک روایت میں ہیں: ہم نے ان کے سامنے والے اور جانبین کے بالوں کو پیچھے کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1253، 1254، 1258، ومسلم: 939، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21071»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں، آٹھ سن ہجری کے اوائل میں ان کی وفات ہوئی تھی، اگرچہ بعض روایات سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر میں مصروف تھے، اس وقت ان کی وفات ہوئی تھی۔ تین حصوں سے مراد تین مینڈھیاں ہیں، جیسا کہ دوسری روایات میں وضاحت کی گئی ہے۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کی بھی یہی رائے ہے، البتہ احناف کا خیال یہ ہے کہ عورت کے بالوں کو کھلا رکھ کراس کے چہرے پر اور پیچھے ڈال دیئے جائیں، لیکن اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنگھی کر کے اس کی مینڈھیاں بنا دینی چاہئیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1253


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3107 in Urdu