الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ وَتَشْيِيعِ الْجَنَازَةِ
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3139
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً يَحْمِلُ مِنْ عُلُوِّهَا، وَحَثَا فِي قَبْرِهَا وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ، أَبَى بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی چارپائی اٹھانے کے وقت سے اس کے ساتھ رہتاہے اور قبر میں مٹی بھی ڈالتا ہے اور اس وقت تک ساتھ رہتا ہے کہ دفن کے بعد اسے واپسی کی اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ اجر کے دو قیراط لے کر واپس ہوتا ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3139]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الله بن ھرمز، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10887»
وضاحت: فوائد: … ”مِنْ عُلُوِّھَا“ کا مرادی معنی ”مِنْ اِبْتِدَائِھَا“ ہے، یعنی شروع سے اس کے ساتھ رہتا ہے، ویسے اس لفظ میں میت کی چارپائی کندھوں پر اٹھانے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3139 in Urdu