الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الصَّلَاةِ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَعَدَمِ مَشْرُوعِيَّتِهَا عَلَى الشُّهَدَاءِ
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ (يَعْنِي الْجَوْنِيَّ) عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ قَالَ بَهْزٌ: إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا، قَالَ: فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ، الْحَدِيثَ
سیّدنا ابوعسیب (یا ابوعسیم) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ جنازہ میں حاضر تھے، وہ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپس میں کہا کہ اب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ ایک نے کہا: مختلف گروہوں کی صورت میں داخل ہوتے جاؤ۔ پس وہ ایک دروازہ سے داخل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھتے اور دوسرے دروازہ سے باہر نکل جاتے، …۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21047»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نے مختلف گروہوں کی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ ادا کی تھی، ممکن ہے کہ ہر گروہ باجماعت نماز جنازہ ادا کرتا ہو یا علیحدہ علیحدہ، دونوں احتمال موجود ہیں۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس انداز میں نماز جنازہ ادا کرنا، اس کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے باہر نہیں نکالنا چاہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کی روایات (سنن ابن ماجہ:۱۶۲۸) میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور دلائلِ (بیہقی:۷/ ۲۵۰) میں سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہیں، لیکن وہ ضعیف ہیں، البتہ نماز جنازہ کا قصہ شواہد کی بنا پر درست ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3148 in Urdu