الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ تَرْكِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ عَلَى الْغَالِّ وَقَاتِلِ نَفْسِهِ وَنَحْوِهَا
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3156
عَنْ سِمَاكَ (ابْنِ حَرْبٍ) أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاتَ فُلَانٌ، قَالَ: ( (لَمْ يَمُتْ) ) ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كَيْفَ مَاتَ؟) ) ، قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ، قَالَ: فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، (وَفِي رِوَايَةٍ) قَالَ: ( (إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ) )
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی فوت ہو گیا، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی فوت ہو گیا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فوت نہیں ہوا۔ اس نے دوبارہ اور پھر سہ بارہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی بات بتلائی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے موت کس طرح آئی ہے؟ اس نے کہا کہ اس نے ایک چوڑے تیر کے ذریعے اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھرمیں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3156]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20816، 20848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21101»
وضاحت: فوائد: … سنن ابن ماجہ (۱۵۲۶) اور مسند احمد (۲۰۸۸۳) کی دوسری روایت کے آخر میں راویٔ حدیث کے یہ الفاظ بھی مروی ہیں: کُلُّ ذَالِکَ أَدَبٌ مِنْہُ۔ یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کا نماز جنازہ نہ پڑھنا ایک تادیبی کاروائی تھی، تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور ایسا اقدام کرنے سے باز رہیں۔ خودکشی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، بہرحال عام مسلمانوں کو اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 978
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3156 in Urdu