الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْعِلْمِ
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 319
عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: ( (وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ) ) قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاءُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ( (ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ) )
سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: ”یہ اس وقت ہو گا، جب علم اٹھ جائے گا۔“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17612»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث کے فوائد دیکھیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 4048
Al-Fath al-Rabbani Hadith 319 in Urdu