الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الْقِيَامِ لِجَنَازَةِ الْكَافِرِ
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
حدیث نمبر: 3223
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَمُرُّ بِنَا جَنَازَةُ الْكَافِرِ أَفَنَقُومُ لَهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، قُومُوا لَهَا، فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ النُّفُوسَ) )
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرے تو کیا ہم اس کے لیے کھڑا ہواکریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس کے لیے کھڑا ہوا کرو، پس بیشک تم اس کے لیے نہیں، بلکہ روحوں کو قبض کرنے والی ذات کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 486، وابن حبان: 3053، والحاكم: 1/ 357، والبيھقي: 4/ 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6573»
وضاحت: فوائد: … یعنی تمہارے کھڑے ہونے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے، جو مخلوقات کی زندگی کو موت سے بدل دیتا ہے، اس سے تم کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قہر یاد آ جانا چاہیے اور غفلت اور دنیا سے دھوکہ کھانے سے باز آ جانا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3223 in Urdu