الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الْقِيَامِ لِجَنَازَةِ الْكَافِرِ
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
حدیث نمبر: 3229
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَقَيْسَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَمَرَّا بِجَنَازَةٍ، فَقَامَا، فَقِيلَ: إِنَّمَا هُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: ( (أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟) )
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیّدناسہل بن حنیف اور سیّدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ مقام میں بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے، یہ دونوں کھڑے ہو گئے۔ کسی نے ان سے کہا:یہ تو ذمی لوگوں میں سے تھا۔ انھوں نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جنازہ لے کر گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہوئے، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: یہ تو یہودی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ایک جان نہیں ہے؟ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1312، ومسلم: 961، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24343»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم سابقہ احادیث والا ہی ہے، یعنی یہ بھی مرنے والا ایک نفس ہی ہے اور ہمارا کھڑا ہونا موت کی صعوبت کی یاددہانی کی خاطرہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1312
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3229 in Urdu