🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ الْمَيِّتُ قَبْرَهُ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَالِكَ وَمَنْ يُدْخِلُهُ ، وَمَا جَاءَ فِي الْحَشْيِ فِي الْقَبْرِ وَانْتِظَارِ الْفَرَاغِ مِنَ الدَّفْنِ
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَهِدَ جَنَازَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَظْهَرُوا الْاسْتِغْفَارَ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنَسٌ، قَالَ هُشَيْمٌ: قَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ بِالْبَصْرَةِ فَشَهِدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَظْهَرُوا لَهُ الْاسْتِغْفَارَ
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک انصاری آدمی کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے اس کے حق میں بلند آواز سے دعائے مغفرت کی اور سیّدناانس رضی اللہ عنہ نے ان پر کوئی انکار نہیں کیا۔ خالد راوی نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: انہوں نے میت کو قبر کے پاؤں کی طرف سے اتارا تھا۔ اور ہشیم راوی نے ایک مرتبہ اس حدیث کو یوں بیان کیا: بصرہ میں ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا تھا، سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی اس کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے میت کے حق میں بآواز بلند دعائے مغفرت کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4080»
وضاحت: فوائد: … ہم ”جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا“ کے باب میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ میت کے پاس کون سی آواز منع ہے، نیز میت کو قبر میں اتارنے کی دعا کی بھی وضاحت ہو چکی، اِس حدیث سے مراد اتفاقی طور پر دعائیہ کلمات کی آواز کا بلند ہو جانا ہے۔ اس حدیث میں ایک اور اہم مسئلے کا بیان ہے، جس سے ہمارے ہاں عام طور پر غفلت برتی جا رہی ہے، اور وہ ہے میت کو اس کی قبر کی پاؤں والی سمت سے داخل کرنا، اس کی مرفوع دلیل یہ ہے:

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين


Al-Fath al-Rabbani Hadith 3259 in Urdu