الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ تَسْوِيَةِ الْقُبُورِ وَرَشِّ الْمَاءِ عَلَيْهَا وَتَسْمِيَتِهَا لِتُعْرَفَ
قبروں کو برابر کرنا، ان پر پانی چھڑکنا اور ان کو کو ہان نما بنانا تاکہ ان کو پہچانا جا سکے
حدیث نمبر: 3267
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ وَأَنْ يَلْطَخَ كُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ: ( (يَا عَلِيُّ! لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، وَلَا مُخْتَالًا وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ أَوْ مَسْبُوقُونَ فِي الْعَمَلِ) )
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو توڑ ڈالنے کے لیے ایک انصاری کو بھیجا، لیکن اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے گھروں کے اندر داخل ہونے کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، جب میں آ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! تم فتنہ باز اورمتکبر نہ بننا اور نہ ہی تاجر بننا، الایہ کہ خیر کا تاجر ہو، یہ لوگ عمل میں ٹال مٹول کرنے والے ہیں یا دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1176»
وضاحت: فوائد: … یعنی آج کرتے ہیں، کل کر لیں گے، بس کر ہی لیں گے۔ وہ یہی باتیں کرتے کرتے وقت گزار دیتے ہیں، ان کو کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔ یہ بڑا خطرناک انداز ہے، جس کا نتیجہ محرومی ہی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس انداز سے بچائے۔ (آمین) نیکی کے کام جلد اور اول فرصت میں کرنے کی عادت بنانی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1176
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3267 in Urdu