الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَخْصِيصِهَا وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
حدیث نمبر: 3273
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ وَأَنْ يُجَصَّصَ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے اور اسے چونا گچ کرنے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد اختلف فيه علي ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27090»
وضاحت: فوائد: … ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ بھی مذکور ہیں: ((… وَاَنْ یُّکْتَبَ عَلَیْہِ …۔)) یعنی: اور قبر پر لکھنے سے بھی منع فرمایا۔ سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی قبر پر لکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قبر پر لکھنا بھی منع ہے، لیکن اس وقت قبروں کو اونچا بنانا، پکا کرنا، ان پر لکھنا، سنگ ِ مر مر کی تختیاں لگانا، بار بار ان کی مرمت کرنا، ان کے اوپر کمرے بنانا، قبروں پر بیٹھنا، ان میں بلکہ ان پر جوتوں سمیت چلنا، یہ امور عام ہو چکے ہیں، اس طرح کئی احادیث ِ مبارکہ کی مخالفت ہو رہی ہے۔ البتہ قبر کی شناخت کے لیے لکھنے کے علاوہ کوئی اور علامت لگائی جا سکتی ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3273 in Urdu