الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ مَا جَاءَ فِي هَوْلِ الْقَبْرِ وَفِتْنَتِهِ وَالسُّؤَالِ فِيهِ وَشِدَّتِهِ
قبر کی ہولناکی، آزمائش، اس میں کیے جانے والا سوال اور اس کی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3298
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَتَّانَ الْقُبُورِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عُقُولُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (نَعَمْ كَهَيْئَتِكُمُ الْيَوْمَ) ) ، فَقَالَ عُمَرُ: بِفِيهِ الْحَجَرُ
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فَتَّان (فرشتوں) کا ذکر کیا، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا وہاں ہماری عقلیں لوٹا دی جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل آج کی طرح۔ تو سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے منہ میں پتھر۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3298]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 3115، الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6603»
وضاحت: فوائد: … ”فَتَّان“ سے مراد قبر میں فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے فرشتے ہیں۔ ”اس کے منہ میں پتھر“ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ان الفاظ کے ذریعے اپنے دل میں ایمان کے رسوخ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ جب فرشتے قبر میں ان سے سوال کریں گے تو وہ ان کو ایسا درست جواب دیں گے کہ وہ خاموش ہو جائیں گے۔ عرب لوگوں کے ہاں یہ الفاظ سائل کو خاموش کر دینے سے کنایہ ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 3115
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3298 in Urdu