الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. فَصْلٌ ثَانٍ فِي عَذَابِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْقَبْرِ
دورِ جاہلیت والے لوگوں کا قبر میں عذاب
حدیث نمبر: 3317
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ: ( (مَتَى دُفِنَ هَذَا؟) ) ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُفِنَ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ وَقَالَ: ( (لَوْ لَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبر سے آواز سنی اور پوچھا کہ یہ آدمی کب دفن کیا گیا تھا؟ صحابہ نے بتایا:اے اللہ کے رسول! یہ آدمی قبل از اسلام دور جاہلیت میں دفن ہوا تھا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قدرے اطمینان ہوا اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12007، 12808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12030»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2868
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3317 in Urdu