الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي الْإِعْتِصَامِ بِسُنَّتِهِ ﷺ وَالْاهْتِدَاءِ بِهَدْيِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو تھامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 335
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ: اتْلُوا عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا، مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ فَأَنَا أَقُولُهُ وَمَا أَتَاكُمْ مِنْ شَرٍّ فَأَنَا لَا أَقُولُ الشَّرَّ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے اس شخص کو جانتا ہوں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: مجھ پر اس کے ساتھ قرآن پڑھو۔ میری حوالے سے تمہیں خیر والی جو بات پہنچے، میں نے وہ کہی ہو یا نہ کہی ہو، پس میں اس کو کہوں گا اور اگر کوئی شر والی بات پہنچے تو میں شر کہنے والا نہیں ہوں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي معشر نجيح بن عبد الرحمن السندي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10274»
وضاحت: فوائد: … آخری احادیث میں منکرین حدیث پر ردّ ہے، ہم نے اس کتاب کے شروع میں مقدمہ کے بعد حجیت ِ حدیث کے عنوان پر ایک سیر حاصل مضمون قلم بند کیا ہے، جس میں تکنیکی انداز میں اِن منکرین کا ردّ کیا گیا ہے، اس مضمون کا تعلق اس باب سے ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس عنوان کا بغور مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي معشر نجيح بن عبد الرحمن السندي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 335 in Urdu