الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ افْتِرَاضِ الزَّكَاةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَالتَّشْدِيدِ فِي مَنْعِهَا
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3366
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: لَمَّا ارْتَدَّ أَهْلُ الرِّدَّةِ فِي زَمَانِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ يَا أَبَا بَكْرٍ! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ) ) ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ! لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ! مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
عبید اللہ بن عبداللہ کہتے ہیں: جب سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں لوگ مرتدّ ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر! بھلا آپ ان لوگوں سے قتال کیسے کر سکتے ہیں، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فرمایا تھا کہ مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ نہ کہہ دیں، اور جب وہ یہ کلمہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھ لیں گے تو اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، مگر حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ لیکن سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو لوگ نماز اور زکوۃ میں فرق کریں گے، میں ان سے ضرور لڑوں گا، بے شک زکوۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم ہے، اگر ان لوگوں نے ایک بکری روک لی، جو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں اس وجہ سے ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے فوراً پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ قتال کے لیے کھولا ہے، پس میں نے یہ جان لیا کہ یہی بات برحق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1399، 1456، 1457، ومسلم: 20، وھو الحديث المتقدم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:117، 239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 239»
وضاحت: فوائد: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مختلف انداز میں بعض لوگ مرتدّ ہو گئے تھے، کسی نے دوبارہ بتوں کی پوجا اختیار کر لی، کوئی مسیلمہ کذاب سے جا ملا اور بعض لوگ ایمان پر تو برقرار تھے، لیکن انھوں نے بغاوت اور لالچ کرتے ہوئے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صرف ”لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ“ کے الفاظ کے مصداق کو سامنے رکھ کر مانعینِ زکوۃ سے لڑائی نہ کرنے کامشورہ دیا، لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کلمہ کے مفہوم کو سامنے رکھ کر نماز اور زکوۃ کو اسی کا تقاضا قرار دیا اور یہی معنی درست تھا، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَیُقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوْا الزَّکَاۃَ، ثُمَّ قَدْ حُرِّمَ عَلَیَّ دِمَاؤُھُمْ وَاَمْوَالُھُمْ، وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ یعنی: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ (ان امور کو سرانجام نہ دیں): (۱)یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے کے رسول ہیں، (۲) نماز قائم کریں اور (۳) زکوۃ ادا کریں۔ تب مجھ پر ان کے خون اور مال حرام ہوں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ (مسند احمد: ۸۵۴۴، ۲/ ۳۴۵)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1399
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3366 in Urdu