الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء فى كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذى جمع فيه فرائض
زکوۃ کے فرائض پر مشتمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر کا بیان
حدیث نمبر: 3378
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي بْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَتَبَ الصَّدَقَةَ وَلَمْ يُخْرِجْهَا إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، قَالَ فَأَخْرَجَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ بِهَا حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ بِهَا، قَالَ فَلَقَدْ هَلَكَ عُمَرُ يَوْمَ هَلَكَ وَإِنَّ ذَلِكَ لَمَقْرُونٌ بِوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ كَانَ فِيهَا فِي الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ، إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّةٌ، إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْإِبِلَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونَ، (وَفِي الْغَنَمِ) مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ بَعْدُ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَكَذَلِكَ لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، لَا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ مِنَ الْغَنَمِ
ٔٔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے، لیکن ابھی تک ان کو عاملین کی طرف نہیں بھیجاتھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر عمال کی طرف بھجوائی اور ان کی وفات تک اس پر عمل ہوتا رہا، ان کے بعد سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی تحریر اپنے عمال کو بھجوائی اور اس پر عمل ہوتا رہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت وہ تحریر ان کی وصیت کے ساتھ موجود تھی، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس میں یہ تفصیل لکھی ہوئی تھی: چوبیس اونٹوں تک ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری بطور زکوۃ مقرر ہے، جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو ایک بنت ِ مخاض فرض ہے، اگر بنت ِ مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیا جا سکتا ہے، زکوۃ کی یہ مقدار پینتیس اونٹوں تک ہے، جب چھتیس ہو جائیں تو پینتالیس اونٹوں تک بنت ِ لبون واجب ہے، پھر چھیالیس سے ساٹھ تک حِقّہ ہے، اس سے بڑھ جائیں تو پچھتر تک جذعہ ہے، جب اونٹ اس مقدار سے بھی بڑھ جائیں تو نوے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون ہوں گی۔ اس کے بعد اکانوے سے ایک سو بیس تک تین حقّے واجب ہیں اور جب اونٹ اس سے بھی زائد ہوں تو ہر پچاس پرایک حقّہ اور ہر چالیس میں ایک بنت ِ لبون بطور زکوۃ فرض ہے۔ رہا مسئلہ بکریوں کی زکوۃ کا تو (۴۰) سے (۱۲۰) بکریوں تک ایک بکری اور (۱۲۱) سے (۲۰۰)تک دو بکریاں بطورِ زکوۃ فرض ہیں، اگر وہ اس سے زیادہ ہو جائیں تو (۳۰۰) تک تین بکریاں اور اس کے بعد (۴۰۰) ہو جائیں تو چار بکریاں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بکریاں ہوں تو ہر (۱۰۰) میں ایک بکری۔زکوۃ سے بچنے کے لیے ایک ریوڑ کو الگ الگ یا الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا نہ کیا جائے۔ اگر ایک سے زائد شرکاء کی بکریوں میں سے زکوۃ واجب ہو گئی تو وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیں گے۔ زکوۃ میں کوئی بوڑھی یا عیب والی بکری نہ لی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3378]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين في روايته عن الزھري أخرجه ابوداود: 1568، والترمذي: 621، وابن ماجه: 17798، 1805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4632، 4634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4634»
وضاحت: فوائد: ساری حدیث واضح احکام پر مشتمل ہے، استعمال ہونے والی اصطلاحات کے معانی یہ ہیں:
الحكم على الحديث: حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3378 in Urdu