الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ
کھجور اور انگور کی فصل کا اندازہ لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 3421
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَجُذُّوا أَوْ تَدَعُوا فَدَعُوا الرُّبُعَ) )
۔ سیدناسہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم فصل کا اندازہ کر لو تو اس کے کٹنے کے بعد (زکوۃ کی یہ مقدار وصول کرو، لیکن) ایک تہائی چھوڑ دو، اگر تم اتنا نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 1605، والترمذي: 643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15804»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل کا اندازہ لگانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں شافعی اور احمد کے نزدیک ان فصلوں کا اندازہ لگانا مستحب ہے۔ مالک، شریح اور ابو جعفر اور بعض ظاہریہ کے نزدیکیہ واجب ہے۔ نودی نے کہا ہے کہ کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل جن میں عشر و اجب ہوتا ہے۔ ان میں فصل کا اندازہ کر لینا مستحب ہے۔ اس باب میں زمیندار لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت آمیز رخصت کا بیان ہے اور وہ یہ کہ حکومت کے نمائندے فصل تیار ہو چکنے کے بعد فصل کا اندازہ لگائیں اور پھر دسویںیا بیسویں حصے کی روشنی میں زمیندار کے لیے زکوۃ کی کل مقدار کا تعین کر دیں، اس طرح سے زمیندار لوگ ساری فصل کے باریک اور مجموعی حساب سے محفوظ ہو جاتے ہیں، کیونکہ کئی فصلیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ مقدار جانوروں کو کھلا دی جاتی ہیں، کچھ مقدار مالک اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے، کچھ مقدار موچی اور حجام لوگوں کو دے دی جاتی ہے اور کچھ مقدار تاجروں کو فروخت کر دی جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3421 in Urdu