الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ الرِّفْقِ بِرَبِّ الْمَالِ وَأَمْرِ الْمُصَدِّقِ بِالذَّهَابِ إِلَيْهِ وَعَدَمِ التَّعَدِّي عَلَيْهِ
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3440
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (زکوۃ کے معاملے میں) جَلَب ہے نہ جَنَب، نیز مسلمانوں سے زکوۃ صرف ان کی رہائش گاہوں پر وصول کی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3440]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد حسن۔ أخرجه البيھقي: 8/ 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6692»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مقصود وہی مسئلہ بیان کرنا ہے، جو حدیث نمبر (۳۴۳۹)میں بیان ہو چکا ہے، مشکل الفاظ کی وضاحت اس طرح ہے: ”لَا جَلَب“:اس کا مفہوم یہ ہے کہ جانوروں کو صدقہ لینے والے کی طرف نہ لایا جائے، بلکہ عامل کو چاہیے کہ جانوروں کے محل کی طرف جائے۔
”لَا جَنَب“:اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صدقہ لینے والے، مالکوں سے دور کسی مقام پر بیٹھ جائے اور جانوروں کو اس کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ حساب کر کے زکوۃ وصول کرے۔ ابواب و احادیث کی مناسبت سے اس مقام پر ان الفاظ کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
”لَا جَنَب“:اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صدقہ لینے والے، مالکوں سے دور کسی مقام پر بیٹھ جائے اور جانوروں کو اس کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ حساب کر کے زکوۃ وصول کرے۔ ابواب و احادیث کی مناسبت سے اس مقام پر ان الفاظ کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3440 in Urdu