الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا
عاملینِ زکوۃ
حدیث نمبر: 3460
عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ، قَالَ: خُذْ مَا أُعْطِيْتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي، فَقُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أُعْطِيْتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ) )
۔ ابن ساعدی مالکی کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات کا عامل مقرر کیاہے، جب میں نے اس کام سے فارغ ہو کر سارا حساب ان کے حوالے کیا تو انھوں نے حکم دیا کہ مجھے اس خدمت کی اجرت دی جائے۔ لیکن میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے اور میرا اجر بھی اللہ تعالیٰ پر ہے،لیکن انہوں نے کہا: جو چیز تم کو دی جا رہی ہے، اس کو لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں اسی طرح کا ایک کام کیا تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس عمل کی اجرت دی اورمیں نے تیرے والی بات کہی تو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا: تمہیں جو چیز بن مانگے مل رہی ہو اس کو لے لیا کرو اور خود بھی کھایا کرو اور صدقہ بھی کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7163، ومسلم: 1045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 371»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو صدقہ و زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، ان کو اس مال میں سے تنخواہ دی جا سکتی ہے، بعض لوگ مساجد و مدارس کے سفیر حضرات پر اس بنا پر سخت طعن کرتے ہیں کہ وہ اسی فنڈ کا کچھ حصہ بطورِ تنخواہ لیتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث کی نصوص سے اس کے لیے رزق کییہ صورت حلال ہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7163
Al-Fath al-Rabbani Hadith 3460 in Urdu